ہر مہینے کی دس تاریخ کو
محلّے کی بارہ عورتیں
میرے گھر جمع ہوتی ہیں
ہر ایک
پانچ سو روپے
ایک پرانے بسکٹ کے ڈبّے میں ڈالتی ہے
اس ڈبّے کا نام
بینک نہیں ہے
مگر اس پر بھروسا
بینک سے زیادہ ہے
اس مہینے
پیسے رخسانہ کے نام نکلے
اس کی بیٹی کا داخلہ ہے
پچھلے مہینے شبانہ کے
اس کے شوہر کا آپریشن تھا
اگلے مہینے
شاید میرا نمبر آئے
میں نے ابھی سوچا نہیں
کہ کیا کروں گی
شاید کچھ نہیں
شاید صرف
ایک دن
اپنے لیے
ایک نئی چپل
اور ایک کتاب
چائے کے دوران
ہم ہنستے ہیں
شوہروں پر، ساسوں پر، مہنگائی پر
اور ایک دوسرے کے
پرانے زخموں پر
ہلدی کی طرح
اپنی باتیں لگا دیتے ہیں
کسی کتاب میں
اسے
“خواتین کی معاشی خود مختاری” لکھا ہوگا
ہم اسے
بس “کمیٹی” کہتے ہیں
Urdu · اردو




