کسی محفل میں گزر ہوا،
موضوعِ بحث کوئی عمل تھا۔
سبھی اس کے برے ہونے پر متفق تھے،
ہم بھی اس کے برا ہونے پر متفق ہو گئے۔
پھر اتفاقاً تیری موجودگی کا پتہ چلا،
تو ہم اس کی وکالت میں لگ گئے۔
اب وہ محفل خفا ہے ہم سے،
پوچھ رہے ہیں—
“کیا تجھے صحیح غلط علم نہیں–
تو کیسے اس پہ راضی ہے؟”
جواب شاید تو ہے؟
نہیں نہیں، تو ہی ہے۔
ورنہ یہ پیمانے میرے—
یوں ہی کیسے بدل گئے؟
کہ صحیح غلط کی تمیز بھی ہم بھول گئے۔
اوروں کو جواب میں کہہ دیں گے کچھ،
پر خود کو کیا کہیں؟
کہ ایک شخص کو نظر،
ہمارے پیمانے ہو گئے۔۔