رات کے ڈیڑھ بجے نیوز روم میں صرف تین چیزیں جاگتی ہیں: پنکھا، پرنٹر اور میں۔ کل کا اخبار آج رات بنتا ہے، اس لیے ہم ہمیشہ ایک دن آگے جیتے ہیں اور ایک دن پیچھے سوتے ہیں۔
میں سرخیاں بناتی ہوں۔ کسی کی زمین کا جھگڑا تین کالم میں آتا ہے، کسی کی بیٹی کا پہلا انعام ایک کالم میں۔ میں ہر رات خبروں کو ان کے قد کے حساب سے کاٹتی ہوں، اور ہر رات سوچتی ہوں کہ دکھ کا قد کون ناپتا ہے۔
ساڑھے دو بجے چائے والا لڑکا آتا ہے۔ اس کا نام کسی کو نہیں معلوم، سب اسے “چھوٹو” کہتے ہیں۔ آج میں نے پوچھا تو اس نے کہا: “رفیق”۔ مجھے شرمندگی ہوئی کہ ہم ساری دنیا کے نام صحیح لکھتے ہیں۔
پریس کی مشین چلتی ہے تو پوری عمارت کانپتی ہے، جیسے کوئی بہت بڑا دل دھڑک رہا ہو۔ صبح جب لوگ اخبار کھولیں گے تو انہیں نہیں معلوم ہوگا کہ ایک صفحے کے کونے میں، باریک حروف میں، میں نے آج رات اپنا ایک خواب بھی چھاپ دیا ہے۔
وہ خواب کسی کو نظر نہیں آئے گا۔ رفیق کو بھی نہیں۔ مگر کسی صبح، کسی کی چائے کی پیالی کے نیچے، وہ رکھا تو جائے گا۔
Urdu · اردو
Related poems
اسکرینUrdu PoemsTehreem Ilham · تحریم الہام
امّی کی چوڑیاںUrdu PoemsTehreem Ilham · تحریم الہام
ٹرامUrdu PoemsShirin Haya Usmani · شیریں حیا عثمانی
آخری پہرUrdu PoemsTabish Jalalvi · تابش جلالوی
نانی کا فونUrdu PoemsSanobar Ishrat · صنوبر عشرت
سلک بورڈ کے اشعارUrdu PoemsIshaan Bhatnagar Rahi · ایشان بھٹناگر راہی





