Skip to main content

The Poetic Land

TYPE AT LEAST 3 CHARACTERS TO SEARCH...

رات کی شفٹ

By Shirin Haya Usmani · شیریں حیا عثمانی

رات کے ڈیڑھ بجے نیوز روم میں صرف تین چیزیں جاگتی ہیں: پنکھا، پرنٹر اور میں۔ کل کا اخبار آج رات بنتا ہے، اس لیے ہم ہمیشہ ایک دن آگے جیتے ہیں اور ایک دن پیچھے سوتے ہیں۔

میں سرخیاں بناتی ہوں۔ کسی کی زمین کا جھگڑا تین کالم میں آتا ہے، کسی کی بیٹی کا پہلا انعام ایک کالم میں۔ میں ہر رات خبروں کو ان کے قد کے حساب سے کاٹتی ہوں، اور ہر رات سوچتی ہوں کہ دکھ کا قد کون ناپتا ہے۔

ساڑھے دو بجے چائے والا لڑکا آتا ہے۔ اس کا نام کسی کو نہیں معلوم، سب اسے “چھوٹو” کہتے ہیں۔ آج میں نے پوچھا تو اس نے کہا: “رفیق”۔ مجھے شرمندگی ہوئی کہ ہم ساری دنیا کے نام صحیح لکھتے ہیں۔

پریس کی مشین چلتی ہے تو پوری عمارت کانپتی ہے، جیسے کوئی بہت بڑا دل دھڑک رہا ہو۔ صبح جب لوگ اخبار کھولیں گے تو انہیں نہیں معلوم ہوگا کہ ایک صفحے کے کونے میں، باریک حروف میں، میں نے آج رات اپنا ایک خواب بھی چھاپ دیا ہے۔

وہ خواب کسی کو نظر نہیں آئے گا۔ رفیق کو بھی نہیں۔ مگر کسی صبح، کسی کی چائے کی پیالی کے نیچے، وہ رکھا تو جائے گا۔

Poet Image

About the Poet

شیریں حیا عثمانی ۱۹۸۱ میں پیدا ہوئیں اور کولکاتا کے ایک اردو روزنامے میں سب ایڈیٹر ہیں۔ ان کی غزلوں اور نثری نظموں میں شہر کی ٹرامیں، بارش اور نیوز روم کی دیر رات کی چائے ملتی ہے۔ ⁦Shirin Haya Usmani (b. 1981) is a sub-editor at an Urdu daily in Kolkata. Her ghazals and prose poems carry the city's trams, rain and late-night newsroom tea.⁩

📍 کولکاتا، بھارت · ⁦Kolkata, India⁩
Facebook
X
LinkedIn
Threads
WhatsApp

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *