نانی ہر اتوار کو گیارہ بجے فون کرتی ہیں، چاہے میں میٹنگ میں ہوں یا نیند میں۔ پہلے پانچ منٹ وہ صرف یہ پوچھتی ہیں کہ آواز آ رہی ہے یا نہیں۔ میں کہتی ہوں ہاں نانی، صاف آ رہی ہے۔ وہ کہتی ہیں تو پھر بولتی کیوں نہیں۔
پھر وہ بتاتی ہیں کہ امرود کے پیڑ پر اس بار طوطے زیادہ آئے، کہ پڑوس کی شمیم کی بہو بہت اچھی ہے مگر دال میں نمک کم ڈالتی ہے، کہ ان کے گھٹنے میں وہی پرانا درد ہے جسے وہ “میرا پرانا دوست” کہتی ہیں۔
میں لیپ ٹاپ پر کسی اور کی اسکرین ڈیزائن کر رہی ہوتی ہوں اور سوچتی ہوں، کوئی ایسا بٹن کیوں نہیں بنتا جسے دبا کر آدمی ایک لمحے میں اپنے بچپن کے آنگن میں پہنچ جائے۔
آخر میں نانی ہمیشہ کہتی ہیں: “اچھا، تیرا وقت خراب کیا۔” اور میں ہمیشہ کہتی ہوں: “نہیں نانی، آپ نے تو وقت ٹھیک کیا۔” یہ جملہ میں نے کبھی کسی میٹنگ میں نہیں بولا۔
Urdu · اردو





