تم میری کیا ہو؟
تم آرزوئے دل ہی نہیں، تم میری ضرورت ہو،
خدا سے جو مانگا ہے، تم وہ نعمت ہو۔
کیسے بھلا دوں تمہیں، تم میری حاجت ہو،
تم زندگی ہی نہیں، میری جان کی امانت ہو۔
پھولوں کی خوشبو ہو، کلیوں کی سجاوٹ ہو،
تم گل ہی نہیں، میرے گلشن کی زینت ہو۔
آئینے کی طرح روشن، اچھائی کی صورت ہو،
پردے میں حسنِ جاناں ہو، ورنہ قیامت ہو۔
داستانِ دل بھی ہو تم، تم ہی میری الفت ہو،
میری ازل سے چاہت ہو، میری آخری محبت ہو۔
وصلِ جاں بھی ہو تم، تم ہی سانسوں کی فرقت ہو،
حرفِ آخر میں بھی تم ہو، تم ہی میری قسمت ہو۔
مصطفیٰ کے دل سے پوچھو، کیا تم اس کی عادت ہو،
تم جواب میں ہی نہیں، سوال میں بھی شرکت ہو۔