Skip to main content

The Poetic Land

TYPE AT LEAST 3 CHARACTERS TO SEARCH...

دوا

By Alok Ranjan Sinha Shafaq · آلوک رنجن سنہا شفق

ہر مرض کی کوئی تدبیر نکل آتی ہے
دل کے زخموں کی بھی تاثیر نکل آتی ہے

میں نے شیشی میں سجا رکھی ہیں میٹھی گولیاں
ان میں بچپن کی بھی تصویر نکل آتی ہے

جب کوئی بوڑھا مریض آ کے دعا دیتا ہے
نسخے سے بڑھ کے اک اکسیر نکل آتی ہے

نبض پر ہاتھ رکھوں تو یہ سمجھ آتا ہے
ہر بدن میں کوئی تحریر نکل آتی ہے

اے شفقؔ شام ڈھلے جب بھی کلینک بند کروں
اپنے ہی درد کی تفسیر نکل آتی ہے

Poet Image

About the Poet

آلوک رنجن سنہا شفقؔ ۱۹۶۹ میں پیدا ہوئے اور پٹنہ میں ہومیوپیتھک ڈاکٹر ہیں۔ اردو انہوں نے اپنے کائستھ دادا کی الماری کی کتابوں سے سیکھی۔ مریضوں کے بیچ غزلیں اور قطعات لکھتے ہیں؛ لوگ کہتے ہیں ان کے نسخے ان کے مسودوں سے زیادہ آسانی سے پڑھے جاتے ہیں۔ ⁦Alok Ranjan Sinha "Shafaq" (b. 1969) is a homoeopathic doctor with a busy clinic in Patna. He learnt Urdu from his Kayastha grandfather's bookshelf, and writes ghazals and qitas between patients; they say his prescriptions are easier to read than his manuscripts.⁩

📍 پٹنہ، بھارت · ⁦Patna, India⁩
Facebook
X
LinkedIn
Threads
WhatsApp

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *