ہمارے مالک مکان
بہت دیندار آدمی ہیں
مہینے کی پہلی تاریخ کو
ان کا ایمان
خاص طور پر تازہ ہو جاتا ہے
دروازے پر دستک دیتے ہیں
تو لگتا ہے
قیامت سے پہلے
کوئی چھوٹی قیامت آئی ہے
نل ٹپکتا ہے
تو کہتے ہیں: “پانی رحمت ہے”
چھت ٹپکتی ہے
تو کہتے ہیں: “بارش بھی رحمت ہے”
کرایہ دو دن دیر سے دو
تو کہتے ہیں: “آج کل کے لڑکوں میں
برکت نہیں رہی”
پچھلے سال
انہوں نے کرایہ بڑھاتے ہوئے کہا
“مہنگائی دیکھو، میاں!”
اس سال
میں نے تنخواہ نہ بڑھنے پر
یہی جملہ اپنے باس سے کہا
باس نے کہا: “معیشت دیکھو، میاں!”
اب میں سوچتا ہوں
مالک مکان اور باس
دونوں کو ایک ہی کمرے میں
کرائے پر بٹھا دوں
اور خود
فٹ پاتھ پر
آزادی سے شاعری کروں
مگر ڈر ہے
فٹ پاتھ کا بھی
کوئی نہ کوئی مالک نکل آئے گا
Urdu · اردو
Related poems
اب تیرے نام کی محفلیں سجاتے نہیں ہمUrdu PoemsArfa Tahseen
چھتوں پر سوکھتے کپڑےUrdu PoemsNargis Fatima Zuberi · نرگس فاطمہ زبیری
برفUrdu PoemsMudasir Rafiq Gani · مدثر رفیق گنائی
مجھے نہیں پرواہ زمانے کیUrdu PoemsArfa Tahseen
صبح کا ریڈیوUrdu PoemsMudasir Rafiq Gani · مدثر رفیق گنائی
شفقUrdu PoemsAlok Ranjan Sinha Shafaq · آلوک رنجن سنہا شفق





