Skip to main content

The Poetic Land

TYPE AT LEAST 3 CHARACTERS TO SEARCH...

مالک مکان

By Junaid Kherwadi · جنید کھیرواڑی

ہمارے مالک مکان
بہت دیندار آدمی ہیں
مہینے کی پہلی تاریخ کو
ان کا ایمان
خاص طور پر تازہ ہو جاتا ہے

دروازے پر دستک دیتے ہیں
تو لگتا ہے
قیامت سے پہلے
کوئی چھوٹی قیامت آئی ہے

نل ٹپکتا ہے
تو کہتے ہیں: “پانی رحمت ہے”
چھت ٹپکتی ہے
تو کہتے ہیں: “بارش بھی رحمت ہے”
کرایہ دو دن دیر سے دو
تو کہتے ہیں: “آج کل کے لڑکوں میں
برکت نہیں رہی”

پچھلے سال
انہوں نے کرایہ بڑھاتے ہوئے کہا
“مہنگائی دیکھو، میاں!”
اس سال
میں نے تنخواہ نہ بڑھنے پر
یہی جملہ اپنے باس سے کہا
باس نے کہا: “معیشت دیکھو، میاں!”

اب میں سوچتا ہوں
مالک مکان اور باس
دونوں کو ایک ہی کمرے میں
کرائے پر بٹھا دوں
اور خود
فٹ پاتھ پر
آزادی سے شاعری کروں

مگر ڈر ہے
فٹ پاتھ کا بھی
کوئی نہ کوئی مالک نکل آئے گا

Poet Image

About the Poet

جنید کھیرواڑی ۱۹۷۵ میں پیدا ہوئے اور ممبئی میں محمد علی روڈ کے پاس ایک چھوٹا سا پرنٹنگ پریس چلاتے ہیں جہاں زیادہ تر شادی کارڈ چھپتے ہیں۔ ان کی مزاحیہ نظمیں ماموؤں، مالک مکانوں، ٹریفک اور خود ان کی توند کو نشانہ بناتی ہیں۔ ⁦Junaid Kherwadi (b. 1975) runs a small printing press near Mohammed Ali Road in Mumbai that mostly prints wedding cards. His humorous poems poke fun at uncles, landlords, traffic and his own waistline.⁩

📍 ممبئی، بھارت · ⁦Mumbai, India⁩
Facebook
X
LinkedIn
Threads
WhatsApp

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *