Skip to main content

The Poetic Land

TYPE AT LEAST 3 CHARACTERS TO SEARCH...

برف

By Mudasir Rafiq Gani · مدثر رفیق گنائی

رات بھر برف گری، صبح کو رستہ نہ ملا
ہم کو اپنے ہی مکاں کا کوئی نقشہ نہ ملا

ایک چنار نے سب زرد ہوا میں لکھا
پھر ہوا آئی تو اس خط کا لفافہ نہ ملا

سب پرندے کسی بستی کی طرف لوٹ گئے
ایک کوّا تھا جسے کوئی بسیرا نہ ملا

ماں نے کانگڑی میں انگارے سجا رکھے تھے
اتنی ٹھنڈک تھی کہ ہاتھوں کو سہارا نہ ملا

جھیل نے اوڑھ لی چپ چاپ سفیدی کی ردا
ہم نے آواز بھی دی، کوئی کنارہ نہ ملا

پھر بھی امید، مدثرؔ، کہیں زندہ ہے یہاں
کون کہتا ہے کہ اس برف میں دانہ نہ ملا

Poet Image

About the Poet

مدثر رفیق گنائی ۱۹۸۳ میں پیدا ہوئے اور سری نگر میں رہتے ہیں۔ سوپور کے قریب خاندانی سیب کے باغ کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور صبح کے وقت ایک مقامی ایف ایم پر موسیقی اور شاعری کا پروگرام پیش کرتے ہیں۔ ⁦Mudasir Rafiq Gani (b. 1983) lives in Srinagar and looks after his family's apple orchard near Sopore. Mornings he presents a music and poetry show on a local FM station; his ghazals carry snow, chinars and patient waiting.⁩

📍 سری نگر، بھارت · ⁦Srinagar, India⁩
Facebook
X
LinkedIn
Threads
WhatsApp

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *