بہت دنوں سے مرے گھر میں خامشی سی ہے
یہ کیسا شور ہے جو اب بھی ان کہی سی ہے
ابا کی چھڑی کونے میں رکھی ہے اب تک
ہر ایک چیز ابھی ان سے بات کرتی سی ہے
کسی نے کہہ دیا “صبر کرو”، تو کر لیں گے
مگر یہ رات تو ہر رات سے بڑی سی ہے
ہم اپنے آپ کو سمجھا کے سو گئے، لیکن
ہماری نیند میں اب تک کوئی کمی سی ہے
یہ دکھ بھی دیکھیے شادابؔ کیسا دکھ ٹھہرا
کہ مسکرائیں تو آنکھوں میں کچھ نمی سی ہے
Urdu · اردو
Related poems
ماںUrdu PoemsMd. Hanzala
ماموں جان کا واٹس ایپUrdu PoemsJunaid Kherwadi · جنید کھیرواڑی
آخری اسٹاپUrdu PoemsUsman Bilal Sahir · عثمان بلال ساحر
چارمینار کے پاس شامUrdu PoemsNargis Fatima Zuberi · نرگس فاطمہ زبیری
سینUrdu PoemsIshaan Bhatnagar Rahi · ایشان بھٹناگر راہی
دو زبانیںUrdu PoemsUsman Bilal Sahir · عثمان بلال ساحر





