Skip to main content

The Poetic Land

TYPE AT LEAST 3 CHARACTERS TO SEARCH...

سوئی دھاگا

By Tabish Jalalvi · تابش جلالوی

دھاگا دھاگا جوڑ کے ہم نے اک چادر تیار کی
اس میں ساری عمر لگی ہے، بات نہیں دو چار کی

سوئی کی نوک پہ ٹھہری ہے اک بوڑھی ماں کی عمر
پھول کھلے تو لوگ کہیں گے، کیا ہی بات بہار کی

اجلے کپڑے، اجلے بوٹے، اجلی سی ہے یہ دنیا
اور ہماری انگلی پر اک بوند لہو کی دھار کی

بازاروں میں بِکتی ہے ہر شے ہی اپنے داموں پر
کس نے قیمت پوچھی ہے اس خاموشی کے پیار کی

چوک کی شاموں میں اب بھی اک خوشبو سی آتی ہے
کچھ عطروں کی، کچھ چائے کی، کچھ ٹوٹی دیوار کی

تابشؔ ہم نے ٹانکا ہے ہر شعر کو یوں کاغذ پر
جیسے کوئی کاڑھ رہا ہو بیل کسی دستار کی

Poet Image

About the Poet

تابش جلالوی ۱۹۷۹ میں پیدا ہوئے اور لکھنؤ میں رہتے ہیں، جہاں چوک میں اپنے خاندانی چکن کاری کے کارخانے کو سنبھالتے ہیں۔ اتوار کی شام محلے کی ایک چھوٹی لائبریری میں چند طالب علموں کو غزل کے اوزان سکھاتے ہیں۔ ⁦Tabish Jalalvi (b. 1979) lives in Lucknow, where he runs his family's chikankari workshop in Chowk. On Sunday evenings he teaches the metres of the ghazal to a handful of students in a small neighbourhood library.⁩

📍 لکھنؤ، بھارت · ⁦Lucknow, India⁩
Facebook
X
LinkedIn
Threads
WhatsApp

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *