دھاگا دھاگا جوڑ کے ہم نے اک چادر تیار کی
اس میں ساری عمر لگی ہے، بات نہیں دو چار کی
سوئی کی نوک پہ ٹھہری ہے اک بوڑھی ماں کی عمر
پھول کھلے تو لوگ کہیں گے، کیا ہی بات بہار کی
اجلے کپڑے، اجلے بوٹے، اجلی سی ہے یہ دنیا
اور ہماری انگلی پر اک بوند لہو کی دھار کی
بازاروں میں بِکتی ہے ہر شے ہی اپنے داموں پر
کس نے قیمت پوچھی ہے اس خاموشی کے پیار کی
چوک کی شاموں میں اب بھی اک خوشبو سی آتی ہے
کچھ عطروں کی، کچھ چائے کی، کچھ ٹوٹی دیوار کی
تابشؔ ہم نے ٹانکا ہے ہر شعر کو یوں کاغذ پر
جیسے کوئی کاڑھ رہا ہو بیل کسی دستار کی
Urdu · اردو
Related poems
دواUrdu PoemsAlok Ranjan Sinha Shafaq · آلوک رنجن سنہا شفق
ویڈیو کال پر آنگنUrdu PoemsKamran Ilahi Azmi · کامران الٰہی اعظمی
بارشUrdu PoemsShirin Haya Usmani · شیریں حیا عثمانی
ماںUrdu PoemsMd. Hanzala
لیسٹر میں بارشUrdu PoemsUsman Bilal Sahir · عثمان بلال ساحر
ماموں جان کا واٹس ایپUrdu PoemsJunaid Kherwadi · جنید کھیرواڑی





