۱
اک ذرّہ ہوں، صحرا کی دعا ہوں میں بھی
اک قطرہ ہوں، دریا کی صدا ہوں میں بھی
جب خود کو مٹایا تو یہ عقدہ کھلا
تجھ سے ہی تو روشن ہوں، ترا ہوں میں بھی
۲
چرخے پہ جو کاتا وہی دھاگا نکلا
جو خواب میں سویا تھا، وہ جاگا نکلا
مُرشد نے کہا، “سوئی کی آنکھ میں دیکھ”
دیکھا تو وہاں عشق کا تاگا نکلا
۳
آنگن میں جو دھوپ ہے، وہ تیری ہے عطا
بچوں کی جو ہنسی ہے، وہ تیری ہے صدا
میں کون ہوں، کیا ہوں، یہ سوال اب نہ رہا
جو کچھ بھی ہوں، اے دوست، ہوں تیری ہی ادا




