بارش کے بعد مٹی مہکنے لگی،
سوئی ہوئی دنیا پھر چہکنے لگی۔
درختوں پہ شبنم کے موتی سجے،
ہر اک شاخ خوشیوں سے لہکنے لگی۔
بادل گئے تو کھلا آسماں،
دھوپ آ کے آنگن میں بہکنے لگی۔
جو کل تک تھا دل غموں سے بھرا،
وہ امید کی روشنی سے دمکنے لگی۔
کبھی ختم ہوتی نہیں رات بھی،
سحر بن کے ہر شام ڈھلنے لگی۔