اتوار کی شام
امّی ہمیں
بڑی جھیل کے کنارے لے جاتی تھیں
ہم بھٹّے کھاتے
اور وہ
پانی کو دیکھتی رہتیں
جیسے کوئی خط پڑھ رہی ہوں
جو صرف انہیں کے نام آیا ہو
میں نے ایک دن پوچھا:
امّی، آپ کیا دیکھتی ہیں؟
وہ ہنسیں:
“دیکھتی ہوں کہ پانی
کتنی آسانی سے
اپنے اندر سورج کو جگہ دے دیتا ہے”
آج میں
اپنے شاگردوں کو
جھیل کی سیر پر لاتی ہوں
بچّے شور مچاتے ہیں
پتھر پھینکتے ہیں
اور میں
چپ چاپ پانی کو دیکھتی ہوں
اب مجھے سمجھ آتا ہے
امّی کچھ نہیں دیکھتی تھیں
وہ بس
ایک گھڑی کے لیے
ہم سب کو
اپنے اندر جگہ دے رہی تھیں
Urdu · اردو





