سگنل لال ہوا تو سوچا تم کو فون کروں
اتنی دیر میں شاید ہم بھی سدھر جاتے
ایک گھنٹے سے کھڑے ہیں اسی چوراہے پر
کتنے رشتے بھی یوں ہی جام ہوا کرتے ہیں
میٹرو آئے گی، کہتے ہیں دس برسوں سے
ہم نے بھی وعدوں کا اسٹیشن دیکھا ہے
آٹو والے نے کہا، “صاحب، ڈیڑھ سو لگیں گے”
میں نے سوچا، کم سے کم کوئی تو صاف بولا
بارش آئی تو پورا شہر کشتی ہو گیا
راہیؔ ہم نے ٹیک پارک تک تیر کر دیکھا
Urdu · اردو
Related poems
سینUrdu PoemsIshaan Bhatnagar Rahi · ایشان بھٹناگر راہی
مریضوں کے قطعےUrdu PoemsAlok Ranjan Sinha Shafaq · آلوک رنجن سنہا شفق
دواUrdu PoemsAlok Ranjan Sinha Shafaq · آلوک رنجن سنہا شفق
آخری پہرUrdu PoemsTabish Jalalvi · تابش جلالوی
مالک مکانUrdu PoemsJunaid Kherwadi · جنید کھیرواڑی
صحرا میں سمندرUrdu PoemsSadaf Jabeen Kotwal · صدف جبیں کوتوال





