ڈاکٹر کہتا ہے، کتنا ٹھونس کر کھاتے ہیں آپ
اس لیے سیڑھی پہ چڑھتے ہانپ سے جاتے ہیں آپ
بیگم کہتی ہیں، قمیصیں روز ہی چھوٹی پڑیں
درزیوں کو کس لیے ہر ماہ بلواتے ہیں آپ
صبح کی سیر کا وعدہ رات بھر کرتے رہے
پھر الارم کو بھی لوری دے کے سلاتے ہیں آپ
نہاری، بریانی، فالودہ، ملائی، شیر مال
اور پھر “ڈائٹ” کا قصہ سب کو سناتے ہیں آپ
آئینہ بولا جنیدؔ آج یہ ہنس کر مجھ سے
“اب مرے فریم میں دو قسطوں میں آتے ہیں آپ”
Urdu · اردو
Related poems
نسخے کی پشت پرUrdu PoemsNargis Fatima Zuberi · نرگس فاطمہ زبیری
قلمUrdu PoemsAzhar Kaleem Hasanpuri · اظہر کلیم حسن پوری
اسکرینUrdu PoemsTehreem Ilham · تحریم الہام
سوئی دھاگاUrdu PoemsTabish Jalalvi · تابش جلالوی
ہائی وے غزلUrdu PoemsKanwaljit Singh Shaida · کنول جیت سنگھ شیدا
بوکی سرراہتUrdu PoemsDawood Ramzan





