بوا میں کوئی سرسرایت سی تھی،
جیسے یاد کا کوئی جسم بے آواز گزر گیا ہو۔
رات نے آنکھ اٹھا کر کچھ پوچھا بھی تھا،
مگر سوال کا مطلب نہ سمجھ آیا، نہ سمجھایا گیا۔
خود سے ملاقات ایک عجیب منزل ہوتی ہے،
جہاں آدمی اپنے ہی نقش سے گھبرا بھی جائے،
پھر اس نقش کی خاموشی میں سکون بھی ملے—
یہ راز نہ پوچھا گیا، نہ کبھی بتایا گیا۔
داؤد، وقت کی گردش میں کچھ لفظ ٹھہر جاتے ہیں،
جیسے اُن کا سفر اِن کی منزل سے بڑھا ہو۔
دل نے انہیں روکنے کی کوشش بھی کی تھی،
پر روح نے کہا — جو رک جائے، وہ سفر کیسا؟