گرد میں لپٹی ہوئی، سوئی ہوئی ہیں کتابیں
میری دکان میں جیسے کھوئی ہوئی ہیں کتابیں
کوئی آتا ہے تو پوچھے ہے فقط “سستی کون؟”
کس قدر عمر سے روئی ہوئی ہیں کتابیں
جن کے حاشیوں پہ کسی آنکھ کے آنسو ٹپکے
انہی اشکوں سے تو دھوئی ہوئی ہیں کتابیں
ایک بچی نے کہا، “انکل، یہ کہانی دے دو”
یوں لگا جیسے کہیں بوئی ہوئی ہیں کتابیں
ہم سے مت پوچھیے شادابؔ کہ کیا جمع کیا
ہم نے کاندھوں پہ فقط ڈھوئی ہوئی ہیں کتابیں
Urdu · اردو
Related poems
تم میری کیا ہو؟Urdu PoemsMustafa khuje
دواUrdu PoemsAlok Ranjan Sinha Shafaq · آلوک رنجن سنہا شفق
بارش کے بعدUrdu Poemsزویا احمد (Zoya Ahmed)
سلک بورڈ کے اشعارUrdu PoemsIshaan Bhatnagar Rahi · ایشان بھٹناگر راہی
اوپن مائکUrdu PoemsTehreem Ilham · تحریم الہام
بارشUrdu PoemsShirin Haya Usmani · شیریں حیا عثمانی





