میرا نام پکارا گیا
“اگلی پرفارمر، تحریم”
اور میں
کاغذ کو ایسے پکڑ کر اٹھی
جیسے کوئی ڈوبتا ہوا
تنکا پکڑتا ہے
سامنے
پچاس فون
اور پچاس چہرے
ان میں سے کچھ
انگریزی میں ہنس رہے تھے
میں نے غزل شروع کی
مطلع پر
کسی نے “واہ” نہیں کہا
یہاں “واہ” کہنے کا رواج نہیں
یہاں تالیاں
آخر میں ملتی ہیں
جیسے بِل
دوسرے شعر پر
پیچھے سے
ایک بوڑھی آواز آئی:
“مکرر!”
میں نے چونک کر دیکھا
وہ کیفے کا چوکیدار تھا
پھر میں نے
ساری غزل
صرف اسی کے لیے پڑھی
اور مقطع پر
پچاس فون
نیچے ہو گئے
Urdu · اردو
Related poems
دواUrdu PoemsAlok Ranjan Sinha Shafaq · آلوک رنجن سنہا شفق
بارش کے بعدUrdu Poemsزویا احمد (Zoya Ahmed)
رباعیاتِ دلUrdu PoemsHaseen Ara Jafri · حسین آرا جعفری
چارمینار کے پاس شامUrdu PoemsNargis Fatima Zuberi · نرگس فاطمہ زبیری
رات دو بجے کا کوڈUrdu PoemsIshaan Bhatnagar Rahi · ایشان بھٹناگر راہی
اسکرینUrdu PoemsTehreem Ilham · تحریم الہام





