امّی کی چوڑیوں کی کھنک یاد آ گئی
باورچی خانے کی وہ مہک یاد آ گئی
آٹا گوندھتے ہوئے جو گنگناتی تھیں
وہ لوری، وہ ہنسی، وہ چہک یاد آ گئی
ہاسٹل کی میز پر رکھی میگی کو دیکھ کر
دسترخوان کی ہر اک جھلک یاد آ گئی
ڈانٹا تھا جس پہ، “دیر سے کیوں آئی ہو؟”
وہ پیار سے بھری ہوئی دہک یاد آ گئی
الہامؔ آج آئینہ دیکھا تو یوں لگا
امّی کی آنکھ کی وہ چمک یاد آ گئی
Urdu · اردو





