یہ جو آنگن میں اتر آئی بہار، اس کا شکریہ
دل کو پھر سے آ گیا تھوڑا قرار، اس کا شکریہ
بیٹیاں آتی ہیں، سیکھیں کاف و نون و قاف کو
میرے حرفوں کو ملا پھر سے نکھار، اس کا شکریہ
جس نے لوٹا دی مری ٹوٹی ہوئی چوڑی کی کھنک
جس نے دھو ڈالا مرے دل کا غبار، اس کا شکریہ
عمر بھر جس کو پکارا، وہ نہ آیا سامنے
پھر بھی ہر سو تھا اسی کا انتظار، اس کا شکریہ
آراؔ اب کیا مانگیے، جب سب عطا ہو ہی گیا
اک دعا، اک دیپ، اک مٹھی سا پیار، اس کا شکریہ




