نانی، یہاں برف ویسی نہیں گرتی جیسی آپ نے کہانیوں میں سنائی تھی۔ یہ بہت خاموشی سے آتی ہے، جیسے کوئی رات کو دیر سے گھر لوٹے اور جوتے ہاتھ میں لے کر سیڑھیاں چڑھے۔
ہسپتال میں آج ایک بوڑھی عورت کا ہاتھ میں نے دیر تک پکڑے رکھا۔ اس کی زبان مجھے نہیں آتی، میری اسے نہیں آتی۔ پھر بھی جب میں نے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا تو اس نے آنکھیں بند کر لیں، جیسے آپ کرتی تھیں جب میں آگرہ کی گرمیوں میں آپ کے بال سہلاتی تھی۔
اتوار کو میں چرچ جاتی ہوں، مگر دعا اردو میں مانگتی ہوں۔ مجھے لگتا ہے خدا کو بھی آپ کا لہجہ اچھا لگتا ہے، اسی لیے وہ میری سنتا ہے۔
کیفے میں لوگ میرا نام غلط لکھتے ہیں۔ کسی دن “روٹ”، کسی دن “روتھی”۔ میں برا نہیں مانتی۔ آپ نے ہی تو سکھایا تھا کہ نام وہ ہوتا ہے جس سے کوئی پیار سے پکارے۔
آپ نے کہا تھا اردو لکھتی رہنا، ورنہ ہاتھ بھول جاتا ہے۔ دیکھیں، میرا ہاتھ اب تک یاد رکھتا ہے۔ کاف کی گول کمر، نون کا نقطہ، اور آپ کا نام، جو میں نے آج بھاپ والی کھڑکی پر انگلی سے لکھا اور پھر برف نے اسے آہستہ سے ڈھانپ لیا، جیسے کمبل۔
Urdu · اردو
Related poems
چھتوں پر سوکھتے کپڑےUrdu PoemsNargis Fatima Zuberi · نرگس فاطمہ زبیری
بارشUrdu PoemsShirin Haya Usmani · شیریں حیا عثمانی
پردیسUrdu PoemsKamran Ilahi Azmi · کامران الٰہی اعظمی
ہائی وے غزلUrdu PoemsKanwaljit Singh Shaida · کنول جیت سنگھ شیدا
خاموش راتUrdu Poemsعائشہ رحمان (Ayesha Rahman)
تم میری کیا ہو؟Urdu PoemsMustafa khuje





