Skip to main content

The Poetic Land

TYPE AT LEAST 3 CHARACTERS TO SEARCH...

نانی کے لیے برف

By Ruth Sahar Masih · روتھ سحر مسیح

نانی، یہاں برف ویسی نہیں گرتی جیسی آپ نے کہانیوں میں سنائی تھی۔ یہ بہت خاموشی سے آتی ہے، جیسے کوئی رات کو دیر سے گھر لوٹے اور جوتے ہاتھ میں لے کر سیڑھیاں چڑھے۔

ہسپتال میں آج ایک بوڑھی عورت کا ہاتھ میں نے دیر تک پکڑے رکھا۔ اس کی زبان مجھے نہیں آتی، میری اسے نہیں آتی۔ پھر بھی جب میں نے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا تو اس نے آنکھیں بند کر لیں، جیسے آپ کرتی تھیں جب میں آگرہ کی گرمیوں میں آپ کے بال سہلاتی تھی۔

اتوار کو میں چرچ جاتی ہوں، مگر دعا اردو میں مانگتی ہوں۔ مجھے لگتا ہے خدا کو بھی آپ کا لہجہ اچھا لگتا ہے، اسی لیے وہ میری سنتا ہے۔

کیفے میں لوگ میرا نام غلط لکھتے ہیں۔ کسی دن “روٹ”، کسی دن “روتھی”۔ میں برا نہیں مانتی۔ آپ نے ہی تو سکھایا تھا کہ نام وہ ہوتا ہے جس سے کوئی پیار سے پکارے۔

آپ نے کہا تھا اردو لکھتی رہنا، ورنہ ہاتھ بھول جاتا ہے۔ دیکھیں، میرا ہاتھ اب تک یاد رکھتا ہے۔ کاف کی گول کمر، نون کا نقطہ، اور آپ کا نام، جو میں نے آج بھاپ والی کھڑکی پر انگلی سے لکھا اور پھر برف نے اسے آہستہ سے ڈھانپ لیا، جیسے کمبل۔

Poet Image

About the Poet

روتھ سحر مسیح ۱۹۹۸ میں پیدا ہوئیں، آگرہ کے ایک مسیحی گھرانے میں پلی بڑھیں اور نرسنگ کی تعلیم کے لیے ٹورنٹو گئیں، جہاں ہفتے کے آخر میں ایک کیفے میں کام کرتی ہیں۔ نثری نظمیں اردو میں لکھتی ہیں تاکہ وہ نانی پڑھ سکیں جنہوں نے انہیں حروفِ تہجی سکھائے تھے۔ ⁦Ruth Sahar Masih (b. 1998) grew up in a Christian family in Agra and moved to Toronto to study nursing; she works weekend shifts at a café. She writes prose poems in Urdu so that her grandmother, who taught her the alphabet, can read them.⁩

📍 ٹورنٹو، کینیڈا · ⁦Toronto, Canada⁩
Facebook
X
LinkedIn
Threads
WhatsApp

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *