پھر کولکاتا کی گلیوں میں وہی بارش ہوئی
ہر دریچے میں کسی کی یاد کی جنبش ہوئی
ٹرام کی گھنٹی بجی، اور بھیگ کر گزری صدا
دل کے اک کونے میں جیسے پھر کوئی لرزش ہوئی
ایک چھتری میں سمٹ آئے تھے دو انجان لوگ
بات پوری بھی نہ تھی اور ختم وہ پرسش ہوئی
ہم نے کاغذ کی طرح خود کو سنبھالا عمر بھر
پھر بھی ہر برسات میں سب حرف کی سازش ہوئی
میز پر رکھی رہی ٹھنڈی سی اک پیالی حیاؔ
آج پھر خبروں میں سب کچھ تھا، نہ اک گنجائش ہوئی
Urdu · اردو
Related poems
ماموں جان کا واٹس ایپUrdu PoemsJunaid Kherwadi · جنید کھیرواڑی
دواUrdu PoemsAlok Ranjan Sinha Shafaq · آلوک رنجن سنہا شفق
اب تیرے نام کی محفلیں سجاتے نہیں ہمUrdu PoemsArfa Tahseen
اوپن مائکUrdu PoemsTehreem Ilham · تحریم الہام
ٹرک اسٹاپ پر وائس نوٹUrdu PoemsKanwaljit Singh Shaida · کنول جیت سنگھ شیدا
رات کی شفٹUrdu PoemsShirin Haya Usmani · شیریں حیا عثمانی





