رات بھر برف گری، صبح کو رستہ نہ ملا
ہم کو اپنے ہی مکاں کا کوئی نقشہ نہ ملا
ایک چنار نے سب زرد ہوا میں لکھا
پھر ہوا آئی تو اس خط کا لفافہ نہ ملا
سب پرندے کسی بستی کی طرف لوٹ گئے
ایک کوّا تھا جسے کوئی بسیرا نہ ملا
ماں نے کانگڑی میں انگارے سجا رکھے تھے
اتنی ٹھنڈک تھی کہ ہاتھوں کو سہارا نہ ملا
جھیل نے اوڑھ لی چپ چاپ سفیدی کی ردا
ہم نے آواز بھی دی، کوئی کنارہ نہ ملا
پھر بھی امید، مدثرؔ، کہیں زندہ ہے یہاں
کون کہتا ہے کہ اس برف میں دانہ نہ ملا
Urdu · اردو
Related poems
ییلو لائنUrdu PoemsSanobar Ishrat · صنوبر عشرت
خاموشیUrdu PoemsArshad Beg Shadab · ارشد بیگ شاداب
ویڈیو کال پر آنگنUrdu PoemsKamran Ilahi Azmi · کامران الٰہی اعظمی
رات دو بجے کا کوڈUrdu PoemsIshaan Bhatnagar Rahi · ایشان بھٹناگر راہی
سوئی دھاگاUrdu PoemsTabish Jalalvi · تابش جلالوی
کرگھے کی آوازUrdu PoemsNikhat Shabnam Momin · نکہت شبنم مومن





