Skip to main content

The Poetic Land

TYPE AT LEAST 3 CHARACTERS TO SEARCH...

چار رباعیاں

By Azhar Kaleem Hasanpuri · اظہر کلیم حسن پوری

۱
ہر صبح نئی دھوپ کا پیغام آیا
ہر شام کوئی خواب مرے نام آیا
میں عمر بھر اک لفظ کو ڈھونڈا کیا
وہ لفظ دعا بن کے سرِ شام آیا

۲
مٹی نے کہا، مجھ سے جدا کیا ہو تم
پانی نے کہا، میری صدا کیا ہو تم
انسان نے آئینے سے پوچھا اک دن
آئینہ ہنسا، اور بتا کیا ہو تم

۳
بچوں کی ہنسی گھر کا اجالا ٹھہری
بوڑھوں کی دعا سب سے نرالا ٹھہری
دولت تو بہت آئی، بہت جاتی رہی
اک ماں کی رضا اپنا حوالہ ٹھہری

۴
شاگرد نے پوچھا کہ سبق کیا ہے حضور
میں نے کہا، جو دل میں ہے وہ ہے ضرور
لکھنے سے نہیں آتا ہے لکھنے کا ہنر
جھکتا ہے قلم، تب کہیں آتا ہے شعور

Poet Image

About the Poet

اظہر کلیم حسن پوری ۱۹۶۶ میں پیدا ہوئے اور علی گڑھ کے ایک اسکول میں اردو اور فارسی پڑھاتے ہیں۔ مقامی مشاعروں میں اپنی رباعیات اور قطعات کے لیے جانے جاتے ہیں، اور آج بھی ہر مسودہ فاؤنٹین پین سے لکھتے ہیں۔ ⁦Azhar Kaleem Hasanpuri (b. 1966) teaches Urdu and Persian at a school in Aligarh. He is known in local mushairas for his rubaiyat and qitas, and still writes every draft by hand with a fountain pen.⁩

📍 علی گڑھ، بھارت · ⁦Aligarh, India⁩
Facebook
X
LinkedIn
Threads
WhatsApp

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *