پرانے شہر کی چھتوں پر
دوپہر کو
عورتیں اپنے دن پھیلا دیتی ہیں
دُھلے ہوئے دوپٹوں کی طرح
کوئی نیلا، کوئی دھانی
کسی کے پلّو میں
کل رات کا رونا
ابھی تک تھوڑا سا گیلا ہے
ہوا آتی ہے
تو سب ایک ساتھ لہراتے ہیں
جیسے محلّے بھر کی بیٹیاں
ایک ہی گیت کے مُکھڑے پر
سر ہلا رہی ہوں
شام سے پہلے
ہر عورت
اپنا اپنا آسمان تہہ کر کے
نیچے لے آتی ہے
اور کوئی نہیں پوچھتا
کہ چھت پر
دھوپ کے ساتھ
اور کیا کیا سکھایا گیا
Urdu · اردو
Related poems
نیلUrdu PoemsVasudha Mathur Hina · وسودھا ماتھر حنا
نانی کا فونUrdu PoemsSanobar Ishrat · صنوبر عشرت
پردیسUrdu PoemsKamran Ilahi Azmi · کامران الٰہی اعظمی
چنارUrdu PoemsMudasir Rafiq Gani · مدثر رفیق گنائی
ییلو لائنUrdu PoemsSanobar Ishrat · صنوبر عشرت
سلک بورڈ کے اشعارUrdu PoemsIshaan Bhatnagar Rahi · ایشان بھٹناگر راہی





