ریاض کی دوپہر
اتنی سفید ہوتی ہے
کہ سائے بھی
اپنا رنگ بھول جاتے ہیں
ایسے میں
میرے اندر
بھٹکل کا سمندر
کروٹ لیتا ہے
ماہی گیروں کی کشتیاں
ناریل کے پتوں کی سرسراہٹ
اور ماں کی آواز:
“صدف! بارش سے پہلے کپڑے اندر لے آ”
یہاں بارش
ایک افواہ ہے
جو سال میں دو بار
سچ ہو جاتی ہے
اور لوگ
گاڑیاں روک کر
آسمان کی تصویریں کھینچتے ہیں
میرے اسکول کے بچّے
پوچھتے ہیں:
میڈم، سمندر کیسا ہوتا ہے؟
میں کہتی ہوں:
صحرا جیسا
بس
پانی سے بنا ہوا
اتنا ہی بڑا، اتنا ہی خاموش
اور اتنا ہی
گھر سے دور
پھر ہم
کاغذ پر
نیلا رنگ بھرتے ہیں
اور پوری کلاس
ایک لمحے کو
نم ہو جاتی ہے
خبریں کہتی ہیں
سمندر ہر سال
ذرا سا آگے بڑھ رہا ہے
اور صحرا بھی
میں سوچتی ہوں
کسی دن
دونوں
میرے اندر ہی
آ کر مل جائیں گے





