اس بار عید پر
بیٹے نے
فون کو نیم کے پیڑ سے باندھ دیا
تاکہ میں
پورا آنگن دیکھ سکوں
میں نے دیکھا
اماں
تخت پر بیٹھی سویّاں بانٹ رہی تھیں
چھوٹی بہن کے بچّے
بکری کے پیچھے بھاگ رہے تھے
اور دیوار پر
میرا بچپن کا لکھا ہوا نام
ابھی تک دھندلا سا موجود تھا
بیچ بیچ میں
نیٹ ورک چلا جاتا
اور سب لوگ
بیچ ہنسی میں
پتھر کے بن جاتے
جیسے کسی پرانی تصویر میں
میں اپنے کمرے کی
پانچ چارپائیوں کے بیچ
ایئر کنڈیشنر کے شور میں
بیٹھا رہا
اور سکرین کو
ایسے چھوتا رہا
جیسے کوئی آنگن کی مٹی چھوتا ہے
کال ختم ہوئی
تو کمرے کے ساتھی
کچھ نہیں بولے
بس ایک نے
اپنی سویّوں کا ڈبّہ
میری طرف بڑھا دیا
Urdu · اردو
Related poems
ماموں جان کا واٹس ایپUrdu PoemsJunaid Kherwadi · جنید کھیرواڑی
چار رباعیاںUrdu PoemsAzhar Kaleem Hasanpuri · اظہر کلیم حسن پوری
آنگن کی دھوپUrdu PoemsHaseen Ara Jafri · حسین آرا جعفری
کمیٹیUrdu PoemsNikhat Shabnam Momin · نکہت شبنم مومن
ہائی وے غزلUrdu PoemsKanwaljit Singh Shaida · کنول جیت سنگھ شیدا
تم میری کیا ہو؟Urdu PoemsMustafa khuje





