راجیو چوک پر
میں ہر صبح
ایک ہزار لوگوں کے ساتھ
ایک ہی سانس لیتی ہوں
کوئی کندھا
کسی اجنبی کے کندھے پر
تھوڑی دیر کو سو جاتا ہے
اور کوئی برا نہیں مانتا
اعلان ہوتا ہے:
“دروازے بائیں طرف کھلیں گے”
میں سوچتی ہوں
کاش زندگی میں بھی
کوئی اتنی صاف آواز میں بتا دیتا
کہ اگلا دروازہ کس طرف کھلے گا
ہُڈا سٹی سینٹر تک
میں تین ای میل
دو جھوٹ
اور ایک نظم لکھ لیتی ہوں
جھوٹ دفتر کے لیے ہیں
نظم
اس لڑکی کے لیے
جو ہر صبح
شیشے میں
میرے ساتھ سفر کرتی ہے
Urdu · اردو
Related poems
نیلUrdu PoemsVasudha Mathur Hina · وسودھا ماتھر حنا
جھیل کنارے امّیUrdu PoemsAfreen Saba Shervani · آفرین صبا شیروانی
آنگن کی دھوپUrdu PoemsHaseen Ara Jafri · حسین آرا جعفری
رعایتUrdu PoemsArshad Beg Shadab · ارشد بیگ شاداب
بارشUrdu PoemsShirin Haya Usmani · شیریں حیا عثمانی
صبح کا ریڈیوUrdu PoemsMudasir Rafiq Gani · مدثر رفیق گنائی





