Skip to main content

The Poetic Land

TYPE AT LEAST 3 CHARACTERS TO SEARCH...

تم میری کیا ہو؟

By مصطفیٰ خوجے

تم میری کیا ہو؟

تم آرزوئے دل ہی نہیں، تم میری ضرورت ہو،
خدا سے جو مانگا ہے، تم وہ نعمت ہو۔

کیسے بھلا دوں تمہیں، تم میری حاجت ہو،
تم زندگی ہی نہیں، میری جان کی امانت ہو۔

پھولوں کی خوشبو ہو، کلیوں کی سجاوٹ ہو،
تم گل ہی نہیں، میرے گلشن کی زینت ہو۔

آئینے کی طرح روشن، اچھائی کی صورت ہو،
پردے میں حسنِ جاناں ہو، ورنہ قیامت ہو۔

داستانِ دل بھی ہو تم، تم ہی میری الفت ہو،
میری ازل سے چاہت ہو، میری آخری محبت ہو۔

وصلِ جاں بھی ہو تم، تم ہی سانسوں کی فرقت ہو،
حرفِ آخر میں بھی تم ہو، تم ہی میری قسمت ہو۔

مصطفیٰ کے دل سے پوچھو، کیا تم اس کی عادت ہو،
تم جواب میں ہی نہیں، سوال میں بھی شرکت ہو۔

Poet Image

About the Poet

Mustafa Khuje is an emerging poet from India whose Urdu and Hindustani poetry explores love, longing, devotion, and the intimate language of the heart.

📍 Mumbai, Maharashtra, India
Facebook
X
LinkedIn
Threads
WhatsApp

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *